منگل، 15 اکتوبر، 2013

Mb بکرے کا یعنی میں بکرے کا بزم سے آخری خطاب Live




بکرے کا اراکین بزم سے آخری خطاب ۔۔۔۔۔۔ Live
........................................................................................
میں آپ سے بہت اہم اور اپنی زندگی کا آخری خطاب کرنے جا رہا ہوں۔
میرے پیارے اہل بزم دوستو! گو کہ آپ کو دوست کہنا منافقت سی ہے، ایسے منافق بکرے کی قربانی جائز بھی نہیں ہے مگر مجھے پکا یقین ہے کہ پھر بھی آپ لوگ کردیں گے۔
میں نے اس بزم میں بہت اچھا وقت گزارا ، مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں تنہا نہیں ہوں، بہت سے انسان بھی میری طرح کے خیالات رکھتے ہیں، جو بات بات پر میں میں کرتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ مہنگائ بہت ہے، بکرا خریدنے کی ہمت نہیں ہے، مگر بکروں کی شہادت کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔
ہم بکروں کے اندر بھی جذبات و احساسات ہوتے ہیں، ہم میں بھی شاعر ہوتے ہیں ادیب ہوتے ہیں، محبت کرتے ہیں عاشق ہوتے ہیں۔
ایک بات یاد رکھو کہ تم تو صرف قربانی کرتے ہو، ہم جان سے جاتے ہیں،خدا کے لیے، ہماری جان فضول ضائع مت کرو، فریج کے اندر مہینوں ہم کو اذیت میں رکھا جاتا ہے، ایسے لگتا ہے کہ اگلی عید تک ہمارا گوشت تبرک سمجھ کر کھایا جائے گا، اپنے اگلے پچھلے گناہ بخشوائے جائیں گے۔
اللہ نیت دیکھتا ہے کہ کس کی نیت اللہ کی رضاء ہے، کس کی نیت دکھاوے کی ہے، جس نے دکھاوے کے لیے ہمیں قربان کیا، اس نے ناحق خود پر ظلم کیا اور ہم پر بھی ، اس سے اچھا ہمیں کچھ عرصہ اور زندگی سے لطف اندوز ہونے دیتے، اس بزم کا رکن رہنے دیتے۔
میں جاتے ہوئے آخری گزارش کرنا چاہوں گا کہ ہمارے گوشت میں غرباء مساکین کو یاد رکھِیں، سارا گوشت اپنے ہی باربی کیو کے لیے نہ رکھ لیں۔
غرباء کو گوشت بھی دیں، ساری چربی بیچارے مساکین کو دے دیتے ہیں، جیسے انھوں نے اس چربی سے صابن یا گھی بنانا ہو۔
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو ۔۔۔۔
آپ سب کی قربانی قبول و منطور فرمائے آمین


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنی قیمتی رائے ضرور دیں