عیدِ قرباں کے حوالے سےبہت ہی بچپن کا ایک واقعہ ہے، شاید میں چھے یا سات سال کا رہا ہوں گا۔ ابو سے بکرا لانے کی ضد کرنے لگا عید سےتقریباً پندرہ یا بیس روز پہلے ہی ۔۔ خیر ابو نے جلد ہی میری ضد کے آگے ہتھیار ڈال دئیے اور لے آئے ایک بہت یی تنو مند بکرا۔۔۔ کچھ زیادہ ہی صحت مند اور طاقتور تھا وہ۔۔ لیجیئے صاحب میری خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نا تھا۔۔۔ سرِ شام ہی اب یہ ضد میری کہ میں بکرے میاں کو سیر کروانے جاؤں گا۔ ابو تو چلے گئے تھے یہ ضد میں امی سے کر رہا تھا۔۔ امی نے لاکھ منع کیا کہ احسن تم نہیں سیر کرا پاؤ گے اسے، تمہارے بھائی آ جائیں تو ان کے ساتھ چلے جانا۔۔۔ پر مجھ سے صبر نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔ آخر اس محاذ پر بھی اللہ نے مجھے فتح نصیب کی اور میں چل پڑا بکرے میاں کو لیکرکے۔۔۔ ابھی میں اپنے باغیچے سے نکلا ہی تھا کہ مجھے اپنی اس خوش فہمی کا احساس ہو گیا کہ دراصل میں نہیں، بکرا مجھے سیر پر لے کر نکلا ہے۔۔۔ لیجئے جناب۔۔۔ بکرا آگے آگے اور میں بکرے کی رسّی تھامے۔۔۔ کبھی بھاگتا ہؤا ، کبھی گرتا پڑتا، کبھی گھسٹتا ہؤا اسکے پیچھے پیچھے۔۔۔ اس وقت اگر اے بی ایس بریکس ایجاد ہو چکے ہوتے تو میری حالتِ زار سےلوگوں کو ان بریکس کے ورکنگ پرنسپل کا بخوبی اندازہ ہو جاتا۔۔۔ خیر بکرے میاں نے مجھے کہاں کہاں سیر نہیں کروائی۔۔۔ شہر کا وہل کونسا حصہ ہوگا جہاں بکرے میاں نے مجھے سیر نا کروائی ہوگی۔۔۔ مجھے اپنے شہر کی بہت سی نئی جگہوں سے متعارف کرواتے ہوءے بکرے میاں بگٹٹ بھاگے جا رہے تھے ۔۔۔ شہر چھوٹا سا تھا (روہڑی) لہٰذا کئی جگہوں سے گزرتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ،"یہ تو وہی جگہ ہے ، گزرے تھے ہم جہاں سے"اور مجھے بکرے میاں سے یہ شکایت کہ ،"اماں ، تھمو رے کوئی جگہ ٹھیک سے دیکھ تو لینے دو"خیر ایک ایسی جگہ سے بھی بکرے کا گزر ہؤا جہاں قریب ہی میرے بھائی صاحب فٹبال کےکسی گول کیپر کی طرح سامنے دونوں بانہیں پھیلائے کھڑے تھے۔۔۔ اور انکی بروقت قلابازی نے کام کردکھایا اور رسی بھائی کے ہاتھ آگئی ۔۔ اسطرح بکرے کی باگ ڈور انکے ہاتھ لگ گئی اور میں اس ذمہ داری سے بریءالزماں قرار پایا۔۔۔ دریافت کرنے پر معلوم ہؤا کہ بھائی صاحب "جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں "پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مجھے کافی دیر سے ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔ پر ناکامی مسلسل انکا منہ چڑھائے جا رہی تھی ۔۔۔ تب انھوں نے حکمتِ عملی بدلی اور نئی حکمتِ عملی اپنائی کہ"اگر میں بکرا ہوتا تو کہاں جاتا؟؟؟"اسطرح انھیں کامیابی نصیب ہوئی اور مجھے خلاصی ۔۔۔وہ دن اور آج کا دن ۔۔۔ میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اتنی جلدی جانور لانے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ عید کی رات لے آئیں گے ۔۔۔یہ واقعہ آج بھی میرے چہرے پر مسکراہٹ کا باعث بنتا ہے ۔۔۔ اور دوستو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس واقعہ کو قلمبد کرتے ہوئے میری باچھیں میرے کانوں تک آچکی ہیں ۔


Buht khooob ..... waqi main Muskurahat sja di chehry pr :)
جواب دیںحذف کریں