بدھ، 9 اکتوبر، 2013

میرا راجو -------تحریر ایس۔زیڈ۔ راجہ


ہؤا یوں کہ عید قربان پہ ہم بہن بھائیوں کا جوش دیدنی تھا کہ ہم نے بکرا لانا ہے-اور ہمارا اصرار ہوتا کہ بکرے کو 10 ،20 دن پہلے لایا جائے تاکہ ہم اسکی جی بھر کے رکھوالی کر سکیں -ابو، بکرا کیا لائے ہماری عید ہو گئی -ہم صبح شام بکرے کی خدمت میں جت گئے، نہ اسکول جانے کا دل کرتا نہ کھانا کھانے کا نہ سونے کا -ہم نے مل کے پہلے بکرے کا نام راجو تجویز کیا پھر اسکی سجاوٹ کی چیزیں لے کر آئے -اک دن ہماری ہمسائی دوست ہمارے راجو کا رشتہ لے کر ائی-ہمارے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے تھے۔ ہم نے مما سے نظر بچا کے راجو کا رشتہ طے کر دیا -اور ہم بہن بھائیوں نے بالا ہی بالا شادی کی تیاریاں شروع کر دیا۔ ا پنی پاکٹ منی سے اور کچھ سہیلیوں سے پیسے لے کر مہندی کا پروگرام گھر سے دور اک پہاڑی پہ رکھا جہاں ہم نے راجو سمیت بہت مستیاں کی۔ اگلے دن عید تھی جس دن بارات کی روانگی تھی اور ہم نے دلہن کو لانا تھا - رات بھر حسین خواب دیکھتے آنکھوں میں گزر گئی -صبح ہم تیار ہو کے دوکان سے مشروب لانے گئے۔ ہم بہت خوش تھے ہنستے گاتے بھاگتے گئے -مشروب لیا اور کچھ اہم انتظامات کا جائزہ لیا پھر گھر کو روانہ ہوئے -گھر داخل ہوتے ہی ہم نے جو منظر دیکھا وہ ہمارے ہوش اڑنے کو کافی تھا۔ ایک صاحب ہمارے راجو کو لٹکائے اسکی چیر پھاڑ کرنے میں مصروف عمل تھے۔ ہم بہن بھائیوں کی آنکھیں رو رو سوجھ گئیں، ممکن تھا کہ ہم بیہوش ہوجاتے مگر بھائی نے ہمیں سہارا دیا اور ہم سے لپٹ گیا ہم بے د م ہو کے گر پڑے۔ ہمیں دکھ تھا تو فقط اس بات کا کہ ہمارے راجوکے 
سہرے کے پھول بھی ابھی نہ کھلے تھے کے وہ اس دنیا ہی سے چلا گیا ہم مہینوں اس غم 
سے نڈھال رہے۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنی قیمتی رائے ضرور دیں