بدھ، 9 اکتوبر، 2013

عید پر میں دنبہ لایا:) ... از: عبدالباسط احسان



عید کے حوالے سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ میں خود دنبہ' یعنی اونی بکرا خرید کر لایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا کچھ یوں کہ مجھے مناسب دام میں دنبہ مل گیا' سوچا کہ خود ہی لیتا چلوں' مگر مسئلہ یہ تھا کہ میں پیدل تھا' گاڑی گھر تھی میں نے کہا کوئ بات نہیں ہمت مرداں ' مدد خدا' تین کلومیٹر دور گھر تھا' یہ سفر پیدل طے کرنا تھا۔
رسی پکڑی تو محسوس ہوا کہ دنبہ ' انا پرست ہے۔ خیر کوئ بات نہیں' حالانکہ عقلمندی یہ تھی کہ کسی رکشے کے اندر ہی اس کو سوار کردیتا' اس کو کھینچتا ہوا ' لا رہا تھا' عجیب ہی فطرت تھی اس کی چارہ دکھانے کے باجود ' وہ بیچارہ بنا ہوا تھا۔ ایک کلومیٹر کا سفر گھسیٹتے طے کیا' اب اس سڑک پر پہنچ گیا جہاں ٹریفک کا ہجوم ہوتا ہے یہاں ذرا سی غفلت جان لیوا ہوسکتی تھی۔ اس لیے میں نے رسی مضبوطی سے یوں پکڑ لی' جیسے کوئ پرانے قرض دار کو راستے میں پکڑ لیتا ہے۔ وقت میرے ساتھ نہیں تھا' دنبہ اپنی پوری طاقت لگا رہا تھا' ادھر سے میں اپنی پوری طاقت لگا رہا تھا کہ اس کو سڑک سے دور ہی رکھوں۔۔۔۔۔۔ میں جیت گیا یعنی کہ رسی ٹوٹ گئ اور دنبہ سڑک کے درمیان بھاگنے لگا۔ اس وقت رش تھوڑا کم تھا' گاڑیوں کے آنے سے پہلے پہلے اس کو قابو کرکے سڑک کے کنارے تک لانا تھا۔ مگر کیسے ' رسی ٹوٹ چکی تھی۔
اب میں نے اس کو کان سے پکڑا' مگر ایسا نالائق تھا کہ وہیں ڈٹ گیا کہ چاہے کان توڑ دو ' مگر میں نے نہیں ہلنا۔۔۔۔۔
میں نے زیادہ زور لگایا تو' وہیں ڈھیٹ بن کر بیٹھ گیا۔ یعنی سڑک کے درمیان ' اب میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا' اس وقت کو کوس رہا تھا جب میں نے رکشے کے پیسے بچانے کا سوچا تھا۔
وقت کم تھا' یا تو وہ کسی گاڑی کے نیچے آکر ' انا کے ہاتھوں قربان ہوجاتا ' یا اللہ کوئ سبب پیدا کرتا۔۔۔۔
آخر میں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ اس کو پکڑ کر اوپر اٹھا لیا۔ وہ ایسے ہاتھوں میں تڑپ رہا تھا جیسے مچھلی کو سمندر سے باہر نکالا ہو' میں کبھی جھولتا ادھر کو کبھی ادھر کو' خیر کنارے تک لے آیا۔
اب بھی فاصلہ کافی تھا۔۔۔
اب کیا کیا' جائے ۔۔۔ خیر میں نے وہیں کھڑے ہوکر خالی رکشے کا انتظار کیا اور اس کو باعزت طریقے سے بٹھا کر لے کے آیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از: عبدالباسط احسان


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنی قیمتی رائے ضرور دیں