السلام علیکم!
خواتین و حضرات !! اردو گروپ کے اس پلیٹ فارم سے میں ھوں ھینڈسم، ڈیشنگ، سمیشنگ خرم امتیاز. مجھ سے تو آپ سب بخوبی واقف ھی ھیں. لیکن آج ھم نے اھتمام کیا ھے آپ کے لیے ایک عید ملن پارٹی کا. یقینا یه دن ھمارے لیے ایک یادگار دن ثابت ھوگا
اس دعوت میں شرکت کرنے کے لیے اندرون اور بیرون_ ملک سے تمام احباب تشریف لا چکے ھیں- تو دوستو میں تعارف کے ساتھ رواں تبصره بھی پیش کروں گا. ھاں تو دوستو، یه ھے اردو گروپ کا گھر، آج آپ کو اس گھر کی سیر کراتے ہیں، اور دیکھتے ہیں، کہ مختلف کمروں میں کیا ایکٹیویٹیز چل رھی ہیں.
شروع کرتے ہیں ایک اسٹڈی روم نما کمرے سے، یہ اسٹڈی روم کم اور کمپیوٹر ھارڈ وئیر شاپ زیادہ لگ رہی ہے، تاریں، نیٹ ورک کیبلز، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، موبائل کمرے میں بکھرے پڑے، اور سب ڈیوائسز پر فیس بک چل رہی، اور فیس بک پر اردو گروپ کا پیج کھلا ھوا ہے. کمرے میں ہی بیڈ، اور ڈائننگ ٹیبل بھی موجود ھے، لگتا ھے اس کمرے کا رہائشی یہیں پر کام کرتا، یہیں پر کھاتا اور یہیں پر سوتا بھی ھے. جی ہاں رھائشی نوعیت کے اس اسٹڈی روم کے ایک کارنر میں ٹیبل پر رکھے ھوۓ کمپیوٹر پر مصروف نظر آنے والی خستہ حال شخصیت کا نام عبدالباسط احسان ھے، یه حضرت گروپ کے بانی ھیں، ماشاءالله کافی زرخیز ذھن کے مالک ھیں، اپنے اچھوتے اور منفرد سلسلوں کی بدولت ھم سب میں بھت مقبول ھیں. اگرچه تحریریں سنجیده لکھتے ھیں، مگر اپنے کمنٹس میں چٹکلے چھوڑنا نہیں بھولتے.______ "ارے باسط میاں عید کے دن تو جان چھوڑ دو "اردو" گروپ کی"______ آگے سے جواب آیا ہے ____ "بس یار ابھی آیا، کچھ لوگ گروپ پر دھڑا دھڑ غیر ضروری پوسٹس کر رہے، ان کو وارننگ جاری کر کے ابھی آیا"____ چلئے جب تک یہ صاھب کچھ فارغ ہوتے ہیں، تب تک ھم آپ کو باقی کے گھر کی سیر کرتے ھیں
اور اب کوریڈور میں سامنے سے آتی شخصیت سے آپ کو ملواتا ھوں. جو گو کہ ظاھری طور پر عینک کا استعمال کرتے ھیں مگر آپ عینک کے پیچھے چھپی انکی ماشاءالله ذھانت سے پھرپور چمکتی آنکھیں دیکھ سکتے ھیں، یه حضرت ہر دم مصروف نظر آنے کی کوشش میں کافی مصروف رھتے ھیں. یہ ہیں الفاظ کی ذخیره اندوزی کے ماھر احسن اظھرصاھب
یہ ڈرائنگ روم میں شور کیسا؟؟، آئیے اس طرف جھانکتے ہیں، ہممممم !!! اور یہاں پر کافی ممبران موجود ھیں جو کے بڑی ڈیڈیکیشن سے کام کرتے ھیں بزم کے لیے. کسی کے بھی کمنٹس اور لائک کی پروا کیے بغیر دھڑا دھڑ پوسٹس کرتے رھتے ھیں- دوسرے وه ممبرز ھیں جو کے کام کے نه کاج کے (آھم آھم) مگر آج ادھر ہو کیا رہا ھے؟ اور یہ آوازیں کیسی ہیں؟
اس طرف تو آیئے ارے واه یه جو وائلن په خوبصورت دھن پلے کر رھے ھیں، یه ھیں فیصل ریاض اور اس پر آواز کا جادو جگا رھے ھیں حرف_ راز صاھب. بہت خوب بھئی کیا مدھر آواز ھے جناب کی. چنٹو منٹو اور عبدللہ عفان جھوٹ موٹ کی واہ واہ کر کے موسیقی کی اس کوشش کو سراہ رہے ہیں.
ارے یہ گیٹ سے کون تیزی تیزی سے گھر میں داخل ہو رھا، کالا چشمہ لگا رکھا ھے، پہچان نہیں ہو پا رہی، جناب اب تو گھر کے اندر پہنچ گئے، چشمہ اتاریئے اور اپنی پہچان کروایئے. ارے یہ تو رانا جیزی ہیں. واه ورولے جیسا مزاج پایا ھے انہوں نے، آتے ہی پورے گھر میں ہلچل مچا دی ھے، ہر کوئی اپنی ایکٹیویٹیز چھوڑ کر جیزی کی طرف متوجہ ہو گیا ھے.اور ان کے گلاسز سے آپ جو اندازه لگا رھے ھیں، وہ بالکل غلط ھے ماشاء انکی آئی سائٹ 6/6 ھے البته منفرد نظر آنے کا شوق ان کو چین سے بیٹھنے نھیں دیتا، یه ھر وقت کسی نه کسی گروپ کی وال پر چپکے ھوتے ھیں، آپ انکو اسپائڈرمین بھی کہہ سکتے ھیں- ابھی تو فرش پر ہی کھڑے ہیں، لیکن کچھ خبر نہیں کہ تھوڑی دیر میں یہ گھر کی کسی دیوار سے چپک جائیں. جیزی نے آتے ہی جو گھر میں تھرتھلی مچا دی ھے، تو کچن کی جانب سے بھی لڑکیوں کا شور سنائی دے رہا کہ _____________ جیزی بھائی آ گئے، جیزی بھائی آ گئے، شائد ان کو عیدی کی امید ھے.
خیر آئیے، اب ھم کچن کی طرف جاتے ھیں جہاں خواتین کام میں نھیں باتوں میں مصروف ھیں- سامنے سلیب پر بیٹھی ھوئی اسٹائلش سی معزز ھستی کا نام ھے نازیه عروج، آپ بخوبی واقف ھیں انکی ذھانت و فراست سے یه اس وقت ریڈیو کے کان مروڑنے میں مصروف ھے- اس امید پر کے شاید کسی ایف ایم چینل پر کوئی اچھا گیت سننے کو مل جاۓ، اور کھانا پکانے کا لطف دوبالا ھو جائے، ویسے یه چنیل سرچنگ بھی کسی ذھنی آزمائش سے کم نھیں کیوں نازیه؟ - ان کی دائیں طرف برنر کے پاس کھڑی ھمارے کک کو سپروائز کرتی جو دیہاتی مٹیار نظر آ رھی ھے، یه ثروت گل ھے جس کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا
She came, she saw, she conquered !
ثروت سے ذرا پرے خوبصورت ڈریسز میں ملبوس کومل سی سیمل زئی اور گلبشره باتوں میں مگن- جب که مختلف اقسام کے کیکس کو للچائی نظروں سے دیکھتی ھوئی شوخ و شنگ شاه پری اور سمائلنگ فیس والی انا خان. مگر یه دیکھیۓ نازیه عروج نے کمال_مھارت سے پکوڑوں والی پلیٹ اپنی طرف کھسکا لی ھے، مگر ثروت گل نے نازیه کا وار ناکام بناتے ھوتے پلیٹ واپس اسی جگه رکھ دی- اور ساتھ میں نازیه کو ایک گھوری سے بھی نوازا، جوابا نازیه نے اپنی بتیسی کی نمائش کردی- دوسری طرف خوبصورت خدیجتۂ الکبری اور عائشه بیبی سیلڈ میں سے انار دانه چن چن کے کھا رھی ھیں. بھئی کیا مزے ھیں. پاس ھی مس خدیجه یعقوب اور آنسه فاطمه رضا بڑی ڈیزرٹس کی ڈیکوریشن کو سراھی ھوئی نظروں سے دیکھ رھی ھیں- اور چنچل سی نور الھدی اور ماھین طارق بے فکری سے قہقہے لگا رھی ھیں.- جبکہ سلجھی ھوئی طبیعت کی مالک عائشه حامد ڈشز کے بارے میں سوالات کر کر کے اپنے علم میں اضافه کر رھی ھیں
خواتین میں ایک ھستی ایسی بھی ھے جو کے اپنی بہن کی ضد ھے. کم بولتی ھے، کم نظر آتی ھے. وه ھے ثروت گل کی بہن ٹما گل، جو کہ خالدالرحمن سے محو_گفتگو ہے
ادھر قریب ہی ایک حضرت بغیر کسی شیف کی مدد کے چپلی کباب بنا رھے ھیں، یه بھرام شاه ھیں- ھمیں بہرام بھائی کی خوش آمدید کرنی پڑے گی، تا کی ھم بھی کبابوں سے لطف اندوز ھو سکیں کیوںکہ کبابوں کی خوشبو نے مجھے بھت بے چین کردیا ھے- ان کے پاس کھڑے ھمارے پشتو لب و لہجے والے ھنس مکھ سے خالدالرحمن بہرام سے کہه رھے ھیں: "او یارا !! توڑا ام کو بھی چکھاؤ ". ارے ارے ان کو دیکھیں بالوں کی ھائی پونی ٹیل باندھے ثمن ظھیر راجہ اپنے بھیا احسن اظھر کے کان میں کیا کھسر پھسر کررھی ھے؟ یقینا عیدی مانگ رھی ھو گی. ندیدی کہیں کی
میں اگر مزید یہاں کچن میں رھا تو میرے پیٹ کے چوھے وقت مقررہ سے پہلے ہی رقص شروع کر دیں گے، اس لئے اب کچن سے باہر چلتے ہیں.
لیجئے آج تو ڈائننگ روم میں بھی کھانے کی بجائے کچھ اور ہی چل رھا، ادھر بھی خواتین کا قبضہ ھے، ٹیبل پر انا غنی ٹائیگر التی پالتی مارے بیٹھی ھیں. ھمیں آج تک سمجھ نہ آ سکی کہ یہ محترمہ ٹائیگر کیوں ھیں. ان کے ساتھ ہی کرسی پر سارا رخسار مہندی کی کون ہاتھ میں پکڑے بڑی مہارت سے انم مغل کے ہاتھوں پر مہندی کے ڈیزائن بنا رہی. پاس بیٹھی مینا یاسمین بے صبری سے اپنی باری کا انتظار کر ھی ھے. مینا یاسمین شرارت بھری مسکراہٹ لئے کہہ رہی _____ "سارا باجی، مجھے پیروں پر بھی لگوانی ھے مہندی" ___ اور سارا کہہ رہی، اچھا بابا میری کنسنٹریشن تو خراب مت کر.
باھر لان میں، کچھ لوگوں کو گھیرے عابی مکھنوی صاھب اپنا کلام سنا کر داد سمیٹنے میں مصروف ھیں. پاس بیٹھی متانت بھرے چہرے والی ثوبیہ ناز اور مونا لیزا جیسی سمائل والی شرلی انجم صاحبہ اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں، پاس ہی جونئیر شعراء توصیف احمد، ادریس جامی اور عمران علی تبسم غصے سے ہاتھ مل رہے ھے، کہ کب عابی کے کلام کو بریک لگے، اور یہ لوگ بھی اپنی شاعری سنا کر کچھ داد بٹور سکیں، لیکن عابی صاھب نان سٹاپ کڑوے کسیلے شعر سنائے جا رھے، یه شاعر حضرات بھی نه کوئی موقعه ھاتھ سے جانے نھیں دیتے. چلئے ہم ان دوسرے شعراء کی کچھ مدد کر دیتے ہیں، عابی کو روکنے کا شعبدہ ان کو بتاتے ہیں._______ "ارے بھئی عابی میاں، عید کا دن ھے، کوئی میٹھے پیار بھرے اشعار سنائیے"_____ لو جی !! لگ گئی عابی کو بریک ، کیونکہ میٹھی اور رومانٹک شاعری کا عابی سے کیا تعلق واسطہ؟
اب لان کے ایک کونے میں محمد سعد سعدی، زبیر محمد اور آصف محمود لذید باربی کیو بنانے کی تیاری کر رھے، اور عائشہ انعام، ایمان احمد اور شاہ پری ان کی مدد کو تکے کباب سیخوں میں پرونے میں مصروف ہو چکی ہیں. ان خواتین کے تاثرات سے ان کا یہ خدشہ ظاہر ہو رھا ھے کہ ساری محنت تو ہم بیچاریاں کر رہی ہیں، اور بار بی کیو کا سارا کریڈٹ کوئلوں پر سیخیں تاپ کر ان ندیدے لڑکوں کو مل جانا ھے
لان کے دوسرے کونے میں عید کے لئے بطور خاص ہانگ کانگ سے آئے عمران قاضی، انکے ساتھ مخشف حامد اورفرقان وٹو صاحب کسی نہایت سنجیده بحث میں الجھے ھوۓ ھیں، جبکہ سھیل بشیر، آصف علی اور عثمان علیاچھے سامع بنے بیٹھے ھیں. سنجیدگی بھرے اس کارنر کو بھی مسکراھٹ سے بھرنے کے لئے تھوڑی تھوڑی دیر بعدعمران قاضی کوئی شگوفہ چھوڑ دیتے ہیں،اور سامعین کا قہقہہ بلند ہو جاتا ھے. دروازے کے پاس دلیپ کمار جونیئر یعنی که مرزا غالب کے جانشین ذیشان علی یہاں سے وھاں متلاشی نظروں سے کسی کو ڈھونڈ رھے ھیں، شایدمعراج رسول کو، جنہوں نے بطور_خاص اس دعوت میں شرکت کرنے کے لیے اپنا ایک مشاعره اٹینڈ نھیں کیا، ھم ان کے تہه دل سے مشکور ھیں. دوستو محسن ظفر جو کے ھمارے لاڈلے ایڈمن ھیں نے "پہلی فرصت" میں آنے کا وعدہ کیا تھا، وہ ابھی تک نہیں پہنچے، اور ھم سب انکو بھت مس کر رھے ھیں. جبکہ صبح ہی سے عمر جاوید خان صاحب اپنی گریس فل بیگم خالدہ خان کے ساتھ اسکائپ پر براه_راست دعوت کو انجواۓ کر رھے ھیں. انھوں نے نیک تمناؤں کا اظھار کرتے ھوۓ سب کو عید کی مبارکباد دی ھے. ساتھ ہی انشااللہ بول کر اگلی عید پاکستان میں ھم سب کے ساتھ کرنے کا وعدہ بھی کیا ھے. تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہر کوئی عبدالباسط اور محسن ظفر کے بارے میں پوچھ رھا کہ یہ دونوں حضرات کہاں غائب ھیں
اب آئیں تشریف لائیں کھانا سرو کیا جا چکا ھے-_____"یارا !!! مٹن آلمنڈ قورمے میں بادام تو ھے ھی نھیں"____خالدالرحمان قورمے کی ڈش کی تلاشی لیتے ھوے کہہ رھے ھیں. جب کے فرقان وٹو صاب فروٹ ٹرائفل پر ھلا بول چکے ھیں- ارے آپ حضرات میری طرف مت دیکھئیے، میری پلیٹ پر بنے سندھی بریانی کے پہاڑ کے بجاۓ آپ ذرااحسن اظھر کو دیکیھۓ، موصوف بروسٹ کو مولی گاجر سمجھ کر اس کا صفایا کرنے میں مصروف ھیں- ارے ثروت گلکو تو دیکھو فرنچ کسٹرڈ پر موجود سارے پائن ایپل کے کیوبس سے اپنی پلیٹ بھر چکی ھے. چٹوری کہیں کی ... لگتا ھے محترمه پائن ایپل پہلی اور آخری بار کھا رھی ھیں. جبکہ خدیجه حسب عادت کھانے میں اپنا حصہ کم اور تعریفیں کرنے میں زیادہ حصہ ڈال رہی ھے. اور ایک کونے سے عائشه حامد کی جزاک الله کی آوازیں آ رھیں ھیں- محسن ظفراور معراج رسول بھی تشریف لا چکے ھیں اور کھانے کے ساتھ پورا پورا انصاف کر رھے ھیں. ساتھ ھی ان کے علی عمران شاه بھی آۓ ھیں- نازیه فرائیڈ رائس ودھ مٹن شاشلک کو زیرے کے رائتے کے ساتھ انجواۓ کر رھی ھے. بڑی عقل مندی کی ھے نازیه نے- اور یه تو معجزه ھی ھو گیا. جیزی نے بھی اپنی عینک اتار دی ھے، شاید بوٹیاں ٹھیک سے نظر نھیں آ رھی تھیں. عبدالباسط بھی اپنی کچھار سے نکل آئے ہیں، اور آتے ہی ایرانی تکه بوٹی اور کیچپ سے نبردآزما ھیں. ہر کوئی محسن ظفر سے شکوہ کر رہا ھے کہ کہاں غائب رھے اتنے دن، اور آج عید ملن پارٹی پر بھی لیٹ کیوں آیا، مگر ان گلے شکووں کے ساتھ بھی کھانے سے کسی کا ہاتھ نہیں رک رھا
حضرات !! ھر طرف کانٹوں اور چمچوں کے ساز بج رھے ھیں اور میں بھی اب آپ سے اجازت چاھوں گا، مجھے بھی کھانے پینے کےاس کھیل کا حصه بننا ھے، ابھی ایک صرف بریانی ھی تو کھائی ھے اور بھت کچھ باقی ھے - میں تمام دوستوں کی آمد کا شکریه ادا کرتا ھوں. یه وقت اپنے دامن میں بھت ساری خوشگوار یادیں سمیٹ کر ھمارے دل بھی یادوں سے آباد کر گیا. اپنی دعاؤں میں یاد رکھیۓ گا الله حافظ
