"ڈرتے ہو"
قصائی سے ڈرتے ہو
قصائی تو تم بھی ہو
قصائی تو ہم بھی ہیں
بدنامی سے ڈرتے ہو
بدنام تو تم ہو ، بدنام تو ہم بھی ہیں
بدنام میں بکرا بھی ہیں، اور وہ بکری بھی
اس سے تم نہیں ڈرتے
مہنگائی اور بے انت مسائل کے رشتی ہائے ہائے سے
آدمی ہے وابستہ
لوڈشیڈنگ کے دامن سے اب ہے زندگی وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے
جو ابھی نہیں آئی اس" بتی" سے ڈرتے ہو
اس "بتی" کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو
پہلے بھی تو گزرے ہیں
دور حیرانی کے، اتنی پریشانی کے
پھر کیوں سمجھتے ہو کہ، ہے ہیچ آرزو مندی
اور یہ شب۔ زباں بندی آخر کب تک
تم کیا جانو لڑائی جب ہوتی ہے
لب اگر نہیں ہلتے
تو ہاتھ اٹھتے ہیں، چانٹوں کے نشان بنتے ہیں
عجب غضب اترتا ہے مکّوں کی بارش بن کر
قصائی سے ڈرتے ہو
قصائی تو تم بھی ہو
قصائی تو ہم بھی ہیں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنی قیمتی رائے ضرور دیں