منگل، 15 اکتوبر، 2013

عید ملن پارٹی: از ثروت گل + خرم امتیاز


Mb بکرے کا یعنی میں بکرے کا بزم سے آخری خطاب Live




بکرے کا اراکین بزم سے آخری خطاب ۔۔۔۔۔۔ Live
........................................................................................
میں آپ سے بہت اہم اور اپنی زندگی کا آخری خطاب کرنے جا رہا ہوں۔
میرے پیارے اہل بزم دوستو! گو کہ آپ کو دوست کہنا منافقت سی ہے، ایسے منافق بکرے کی قربانی جائز بھی نہیں ہے مگر مجھے پکا یقین ہے کہ پھر بھی آپ لوگ کردیں گے۔
میں نے اس بزم میں بہت اچھا وقت گزارا ، مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں تنہا نہیں ہوں، بہت سے انسان بھی میری طرح کے خیالات رکھتے ہیں، جو بات بات پر میں میں کرتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ مہنگائ بہت ہے، بکرا خریدنے کی ہمت نہیں ہے، مگر بکروں کی شہادت کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔
ہم بکروں کے اندر بھی جذبات و احساسات ہوتے ہیں، ہم میں بھی شاعر ہوتے ہیں ادیب ہوتے ہیں، محبت کرتے ہیں عاشق ہوتے ہیں۔
ایک بات یاد رکھو کہ تم تو صرف قربانی کرتے ہو، ہم جان سے جاتے ہیں،خدا کے لیے، ہماری جان فضول ضائع مت کرو، فریج کے اندر مہینوں ہم کو اذیت میں رکھا جاتا ہے، ایسے لگتا ہے کہ اگلی عید تک ہمارا گوشت تبرک سمجھ کر کھایا جائے گا، اپنے اگلے پچھلے گناہ بخشوائے جائیں گے۔
اللہ نیت دیکھتا ہے کہ کس کی نیت اللہ کی رضاء ہے، کس کی نیت دکھاوے کی ہے، جس نے دکھاوے کے لیے ہمیں قربان کیا، اس نے ناحق خود پر ظلم کیا اور ہم پر بھی ، اس سے اچھا ہمیں کچھ عرصہ اور زندگی سے لطف اندوز ہونے دیتے، اس بزم کا رکن رہنے دیتے۔
میں جاتے ہوئے آخری گزارش کرنا چاہوں گا کہ ہمارے گوشت میں غرباء مساکین کو یاد رکھِیں، سارا گوشت اپنے ہی باربی کیو کے لیے نہ رکھ لیں۔
غرباء کو گوشت بھی دیں، ساری چربی بیچارے مساکین کو دے دیتے ہیں، جیسے انھوں نے اس چربی سے صابن یا گھی بنانا ہو۔
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو ۔۔۔۔
آپ سب کی قربانی قبول و منطور فرمائے آمین


نمکین غزل : شاعر: نوید رزاق بٹ






****************
عیدِ قربان کے حوالے سے ایک نیم غزل 

(وصی شاہ سے معذرت کے ساتھ ) 


عید کا موسم ہے اور مہنگائی میرے ہم وطن
پھر ذبح ہونے لگے ہیں میں، یہ بکرا، اور تم

یہ بھی مَیں مَیں، تُو بھی مَیں مَیں، مَیں بھی مَیں مَیں رات دن
ہمنوا ہونے لگے ہیں میں، یہ بکرا، اور تم

عید کے دن ہی تری مہندی میرے محبوب کیوں؟
اہ، جدا ہونے لگے ہیں میں، یہ بکرا، اور تم

ایک موٹرسائیکل اور تین ہم، تیار ہو؟
ایک جاں ہونے لگے ہیں میں، یہ بکرا، اور تم

- نوید





بکرے : از توصیف احمد کشاف





کچھ ذکر بکروں کا
ناں جانے کیوں بکروں کا خیال آتے ہی مجھے میراثی یاد آ جاتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ دونوں ہی بہت لاڈلے ہوتےہیں۔ دونوں ہی بہت نخریلے ہوتے ہیں۔ دونوں ہو پانی اور سردی سے بہت ڈرتے ہیں۔ دونوں ہی ذرا سی تکلیف پر شور مچا مچا کے آسمان سر پہ اٹھا لیتے ہیں۔
بکروں کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کو بارش ہو گی یا نہیں پہلے پتہ لگ جاتا ہے۔ بزرگوں کی اس بات کی تو تصدیق نہیں ہو سکی ہاں یہ ضرور ہے کہ 10 کلو میٹر دور سے ہی بادل دیکھ کے اس وقت تک شور ضرور مچاتے ہیں جب تک آپ ان کو اندر کمرے میں نہ لے جائیں۔
بکرے کافی حد تک بچوں کی طرح ہوتے ہیں اور اسی طرح ہی آپ سے نخرے بھی اٹھواتے ہیں۔ پچھلی عید پہ ہم عید سے کچھ دن پہلے ہی بکرے لے آئے اور پھر پھنس گئے۔ گملوں میں موجود پودے تو کھائے سو کھائے مگر ایک بندے کو ہر وقت ان کے ساتھ ڈیوٹی بھی دینی پڑی کیونکہ وہ تنہائی کچھ ذیادہ ہی محسوس کرتے تھے اور گھر کے کسی فرد کی غیر موجودگی میں شور مچاتے تھے۔اوپر سے نیند کے بھی شدید کچے۔ رات کو ان کو سوتا سمجھ کے جیسے ہی اٹھ کے اندر آنا میں میں میں شروع۔
بکرے اگر گھر کے پلے ہوئے ہوں تو پھر ان کے نخرے بھی دیدنی ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ مزا بھی آتا ہے۔ 
گھر کے پلے بکرے اکثر سامنے رکھا ہوا چارا کھانے میں توہیں محسوس کرتے ہیں اور صرف آپکے ہاتھ سے ہی کھانا پسند کرتے ہیں۔
ایسے بکرے آپ کے لہجے کو پہچانتے بھی ہیں اور اس پہ رد عمل بھی ظاہر کرتے ہیں۔ کل ہی ایک دوست نے بتایا کہ جو بکرا ہم لائے ہیں وہ بہت تنگ کرتا ہے۔ امی نے غصے میں بولا تو وہ اگلی ٹانگیں اٹھا اٹھا کے ٹکریں مارنے لگ گیا۔ جب آرام سے بات کی تو پھر سکون سے ہاتھ سے چارا کھانے لگ گیا۔
توصیف احمد کشافؔ

پیر، 14 اکتوبر، 2013

قصائ تو ہم بھی ہیں : از: ذیشان علی


"ڈرتے ہو"
قصائی سے ڈرتے ہو

قصائی تو تم بھی ہو
قصائی تو ہم بھی ہیں

بدنامی سے ڈرتے ہو
بدنام تو تم ہو ، بدنام تو ہم بھی ہیں

بدنام میں بکرا بھی ہیں، اور وہ بکری بھی
اس سے تم نہیں ڈرتے

مہنگائی اور بے انت مسائل کے رشتی ہائے ہائے سے
آدمی ہے وابستہ

لوڈشیڈنگ کے دامن سے اب ہے زندگی وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے

جو ابھی نہیں آئی اس" بتی" سے ڈرتے ہو
اس "بتی" کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو

پہلے بھی تو گزرے ہیں
دور حیرانی کے، اتنی پریشانی کے

پھر کیوں سمجھتے ہو کہ، ہے ہیچ آرزو مندی
اور یہ شب۔ زباں بندی آخر کب تک

تم کیا جانو لڑائی جب ہوتی ہے
لب اگر نہیں ہلتے

تو ہاتھ اٹھتے ہیں، چانٹوں کے نشان بنتے ہیں
عجب غضب اترتا ہے مکّوں کی بارش بن کر

قصائی سے ڈرتے ہو
قصائی تو تم بھی ہو

قصائی تو ہم بھی ہیں


جمعہ، 11 اکتوبر، 2013

چاند رات کا احوال : از: خرم امتیاز

زندگی کی مصروف ترین چاند راتوں میں اک اور کا اضافہ ھو گیا. چاند رات کا آغاز ایک سفر سے ھوا، جب میں اپنا آفس نمٹا کر لاہور سے فیصل آباد کی طرف روانہ ہوا. آج کل کچھ ایسی روٹین ھے کہ مجھے ہر جمعہ کو لاہور سے فیصل آباد آنا پڑتا ھے. فیملی ادھر فیصل آباد میں ھے اور نوکری لاہور میں، تو میں ھفتے کے دو دن فیصل آباد میں فمیلی کے ساتھ پایا جاتا ھوں، اور باقی کے پانچ دن لاہور میں۔

خیر گھر پہنچ کر گھر کی افطاری کی جو چاہ تھی، وہ تو کرن (میری اہلیہ) نے شاپنگ شاپنگ کی رٹ سے ویسے ہی فوت کر دی. جھٹ پٹ سے افطاری کی، اور اپنے آپ کو ایک خونخوار اور تھکا دینے والی شاپنگ کے لئے ذہنی طور پر تیار کر چکا، تو اچانک کرن نے ایک ڈرامائی فرمائش کا اظہار کر دیا کہ آئیے دونوں چھت پر چاند دیکھ کر آئیں. فرمائش سراسر بے معنی تھی، یعنی جو چاند کبھی وقت پر رویت_حلال کمیٹی کو اپنی بھاری بھرکم دوربینوں اور سائنسی مشینری سے نظر نہیں آتا. وہ ہم گنہگاروں کو انسانی آنکھ سے کیونکر نظر آنے لگا. تو وجدان میں اک خیال بجلی کی سی تیزی سے کوندا کہ یقینا کرن نے کسی ٹی وی ڈرامہ سیریل میں ہیرو اور ہیروئن کو چھت پر اکٹھے چاند دیکھتے، دعا مانگتے اور رومانٹک انداز میں "چاند مبارک" کہتے ہوئے دیکھ لیا ھو گا.  اس خیال کے ساتھ ہی، اپنی اس خوبصورت شام اور اس کے آگے جڑی عید کو ایک "میلوڈرامہ" بنںے سے بچانے کی خاطر ھم نے فورا سے پہلے اوپر کی سیڑھیوں کا رخ کیا اور  چھت پر جا کر اپنی معدوم قوت_بینائی سے فلک بینی شروع کر ڈالی، لیکن خوب زور آزمائی کے باوجود بھی مغربی افق پر وہ کمان نما چاند ھماری گستاخ اکھیوں سے اوجھل ہی رھا. ایسے میں ہماری چھٹی حس نے ہمیں خبر دی کہ دوسری اطراف میں محلے کے کچھ پردہ نشیں بھی چاند کی تلاش میں اپنی اپنی چھتوں پر موجود ھیں، اور  ان میں سے کچھ ایسے بھی ھیں، جن سے بچپن میں ھم کافی بےتکلف ھوا کرتے تھے، لیکن اب حالات کی ستم ظریفی کے باعث ان سے ملاقات کا شرف برسوں میں بھی حاصل نہ ھو سکا تھا. چناچہ ہم تو مغرب کے علاوہ اب دوسری اطراف میں بھی چاند ڈھونڈنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر کرن کی مایوسی بھری آواز نے یہ اعلان کر کے ہماری سعی_لاحاصل کے آگے جیسے فل سٹاپ ہی لگا دیا کہ "چلئے  عید بیشک کل ھو نہ ھو لیکن شاپنگ تو گویا آج بھی ضرور ہی کرنی ھے"خیر جتنی لمبی کرن کی شاپنگ کی لسٹ تھی، اسے دیکھ کر لاشعوری طور پر دل میں یہی آرزو جنم لے رھی تھی کہ عید کل کی بجائے پرسوں کی ھو جائے. لیکن ٹی وی چینلز دیکھ کر اندازہ ھو رہا تھا جیسے پاکستانی میڈیا فیصلہ کر چکا ھے کہ کل ہر حال میں عید کر کے چھوڑنی ھے. اور پھر ہوا بھی وہی، یعنی عید کا اعلان ھو گیا. مبارکبادوں کے سلسلے شروع ، ایس ایم ایس کی بوچھاڑ اور فیس بک پر مبارکباد بھرے میسیجز، یہ سب کچھ ساتھ ساتھ جل رہا تھا اور ہم شاپنگ کو بھی نکل رھےتھے. شاپنگ میں دو چیزیں سر فہرست تھیں، ایک ہمارا اپنا ہی سوٹ جو عید کی نماز پر پہننا تھا، اور دوسرے ہماری دو سالہ بیٹی حلیمہ کے جوتے جن کے بغیر گویا یہ عید نامکمل رہتی.۔
 مارکیٹ پہنچنے سے پہلے پہلے، راستے ہی میں ریڈ سگنلز موصول ھونا شروع ھو گئے تھے کہ جناب، جتنا آسان آپ سمجھ رھے تھے، آج یہ مرحلہ اسقدر آسان ہرگز نہ ھو گا، کیونکہ ایک ہی سال میں آبادی جیسے دوگنی ھو چکی تھی، جس کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی دھینگا مشتی تو جاری ہی تھی، ساتھ ہی ساتھ ہر دکان پر گنجائش سے کوئی چار گنا زیادہ افراد بھرے دیکھ کر یقین ھو گیا کہ آج ہی کی رات وہ اصل والی رات "چاند رات" ھے جس کا بیان روایات میں ملتا ھے. یہ بالکل ویسے ہی ھے، جیسے روایات سے طاق راتوں کی نشانیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی عبادات پر مہر ثابت کی جاتی ھے. خیر دکانوں کے اندر کے حبس زدہ ماحول کے باوجود عوام ،جن میں بڑی تعداد معصوم خواتین اور وحشی بچوں کی تھی، ان کا جذبہ و جنوں دیکھ کر ھم اپنی شاپنگ لسٹ بھول کر عوامی سمندر کے اس والہانہ پن میں ڈوب گئے اگلے دو  تین گھنٹے جیسے کسی خواب میں گزر گئے، اپنے اور کرن کے ہاتھ میں بڑے بڑے شاپنگ بیگز دیکھ کر اندازہ ھو رہا تھا کہ اب شاپنگ یقینا مکمل ھو چکی ھے. لیکن محترمہ اہلیہ نے ہمارے گھر لوٹنے کی معصوم خواہشات پر اوس تو گرا ہی دی، ساتھ ہی ساتھ ہمیں مبہوت بھی کر ڈالا یہ بتا کر کہ حلیمہ کے جوتے اور ہمارا عید کی نماز والا سوٹ تو ابھی بھی نہیں لیا. حیرت کے سمندر میں گم ھم یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ گھر سے نکلتے وقت جن دو اشیاء کا اسقدر واویلا تھا، وھی اگر نہیں لی گئیں تو پھر ہم اپنا بٹوہ خالی کئے کونسی نوادرات ان بڑے بڑے شاپنگ بیگز میں بھر کر لے جا رھے تھے. ھم اسی کشمکش میں تھے، اور اس اثنا میں کرن ھمیں مکمل طور پر قائل کر چکی تھی کہ حلیمہ کو جوتوں کی ابھی ضرورت ہی نہیں، اس کے پاس پہلے ہی سے کچھ جوتے موجود ھیں، گزارا ھو جائے گا. اور چونکہ ابھی عید کی وجہ سے مارکیٹ میں کوالٹی کا مال دستیاب نہیں ھے تو جوتے تو عید کے بعد بھی لئے جا سکتے ھیں. مزید یہ کہ جس درزی سے سوٹ لینا ھے، اسکی دکان تو اس مارکیٹ میں ھے ہی نہیں، وہ دکان تو ہمارے گھر سے ملحقہ گلی میں واقع ھے.  ۔
اس مبارک رات جیسے ہم ہر بات پر قائل ھونے کو تیار تھے، اسی قائلانہ موڈ میں ندیم درزی کی دکان پر پہنچے، ندیم صاحب، جو پہلے ہی سے تین عدد گاہکوں سے منہ ماری میں مشغول تھے، ہمیں دیکھ کر انہوں نے پیشہ وارانہ مسکراہٹ کے سوا کسی خاص خوشگوار تاثر کا مظاہرہ نہیں کیا . اس سے پہلے کہ ہم مدعا بیان کرتے، دکان میں پہلے ہی سے جاری گفتگو سے ہمیں اندازہ ھو چکا تھا کہ عید کی نماز ہمیں اپنے کسی پرانے سوٹ میں ادا کرنا پڑ سکتی ھے، اور ھم لاشعوری طور پر اپنے آپ کو اس امر کے لئے تیار بھی کرنے لگے، اگلے مرحلے میں ندیم صاحب نے کمال پروفیشنل ازم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم سے کل صبح عید کی نماز کا وقت پوچھا. اس کے بعد ندیم صاھب کی وہ لازوال سٹیٹمنٹ سننے کو ملی کہ: "بٹ صاحب! عید کی نماز اگر کل صبح چھ بجکر پینتالیس منٹ پر شروع ھونی ھے تو آپکا سوٹ پورے چھ بجے آپکے گھر پر پہنچا دیا جائے گا". ندیم صاحب نے مجھے اور کرن کو کمال مہارت سے قائل کر لیا کہ وہ اور اسکے محنتی کاریگر آج کی پوری رات انتھک محنت کر کے ہمارا سوٹ تیار کر ھی لیں گے اور چاھے سورج مغرب سے نکل آئے، اسرافیل صور پھونک دیں یا چاھے کوئی اور قیامت برپا ھو جائے، لیکن عید کی نماز ھم ہر حال میں اپنے نئے سوٹ میں ہی پڑھیں گے. ندیم صاھب کی کمال پروفیشنل ازم اور ہمیں دی جانے والی اس گراں قدر فیور سے متاثرہ ھم دونوں میاں بیوی ندیم صاھب کو داد و تحسین دیتے ان کی دکان سے نکلے اور گھر آ کر ہی دم لیا.
واپسی پر سب فیملی والے اکٹھے جیسے ہمارے ہی منتظر تھے، چچا کی فیمیلیز اور ہر عمر اور سائز کے ڈھیر سارے کزنز موجود تھے. ہمیں بتایا گیا کہ ھم چونکہ لیٹ ھو گئے ھیں، اس لئے سب مزے مزے کی چیزیں وہ لوگ ہمارے آنے سے پہلے  ہی ھڑپ کر چکے اور باقی ماندہ کچھ اشیاء صلہ رحمی کے طور پر ہمارے لئے فریج میں رکھ دی گئی ھیں. اس وقت ایک بھی سیکنڈ ضائع کئے بغیر فریج کی جانب لپکنا ہمارا اولین فرض تھا. اور اسی اثناء میں تحفے تحائف کا تبادلہ شروع ھو چکا تھا، تب ہمیں شعور آیا اور ھم کرن کو داد دئیے بغیر نہ رہ سکے جب پتا چلا کہ ہمارے ان بڑے بڑے شاپنگ بیگز میں ہمارے اپنے لئے اشیاء کم اور باقی فمیلی ممبران کے لئے تحفے تحائف زیادہ تھے.  اس کے بعد فیملی والوں سے گپ شپ میں لگ گئے، تھکاوٹ اتنی تھی کہ کچھ ھوش نہیں کب سب مہمان واپس گئے. نہ کسی کے ایس ایم ایس دیکھ سکے، اور نہ ہی فیس بک پر کسی کے پیغامات کے ٹھیک سے جواب دے پائے. اگلے دن آنے والی عید، اپنی چھٹیاں اور فیملی کے ساتھ ایسے ہی قیمتی لمحات گزارنے کا خوبصورت تصور لئے کب نیند آئی 
اور کب چاند رات احتتام پذیر ہوئی، پتا ہی نہیں چلا۔


MB بکرا


آپ کا نام؟
میرا نام ایم بی یعنی میں بکرا
۔
عمر؟
جوانی کی عمر ہے وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
ابھی تو میں جوان ہوں
ابھی تو میں جوان ہوں 
۔ 
آپ کی پسندیدہ خوراک؟
گوشت کےعلاوہ ہر سبزی شوق سے کھا لیتا ہوں' پسا ہوا باریک چارہ شوق سے کھاتا ہوں' کولڈ ڈرنکس میں ' روح افزاء جام شیریں پسند ہے' آئیس کریم مجھے والز کی ہی اچھی لگتی ہے۔
۔
اپنی زندگی کے سفر کا مختصر حال بیان کریں۔
میں نے زندگی کا بغور مشاہدہ کیا ہے' میں نے دیکھا ہے کہ اب وہ پہلے سے زمانے نہیں رہے' پہلے مہنگائ نہیں ہوتی تھی' خوشحالی تھی' چارہ وافر ملتا تھا' اب تو لوگوں کا بس نہیں چلتا کہ' کسی سائیکل والی دکان پر لے جاکر ہم بکروں میں ہوا بھروا دیں۔ بس اسی قسم کے معاشی حالات میں پل کر میں جوان ہوا ہوں' حالات اچھے ہوتے تو' آج میرا بھی بکروں میں نام ہوتا' خیر اللہ کا شکر ہے' جو ملا اس پر صبر شکر' بس چوری چھپے کبھی ادھر منہ مارا' تو کبھی ادھر ' کبھی کسی کی فصل میں گھس گئے' تو کبھی کسی کے پودے نوش فرمائے' ایسے ہی زندگی کٹ رہی ہے' ٹھوکریں کھاتے کھاتے' میرا بڑا دل کرتا ہے کہ میں بکروں کی انجمن بناءوں' مگر کیا کریں' جب بھی چار بکرے اکٹھے کرتا ہوں' وہ بکراعید پر ذبح ہوجاتے ہیں' پھر نئے سرے سے بکرے اکٹھے کرنے پڑتے ہیں۔  
میرے گھر والوں نے بھی میرے ساتھ تنگی دیکھی ہے' اللہ ان سب کی روحوں کو سکون بخشے۔
میرے والد مرحوم بلکہ شہید کہا کرتے تھے کہ کبھی کسی انسان پر اعتبار نہ کرنا' حالانکہ ہم بکرے کسی بر اعتبار کریں یا نہ کریں فرق کیا پڑتا ہے' بس ایسی ہی نصیحتیں کرتے کرتے راہ حق میں شہید ہوگئے۔
۔
بچپن کا کوئ دلچسپ واقعہ ؟
ایک بار میں جب چھوٹا بچہ تھا تو میں ریوڑ سے الگ ہوگیا' چرواہے کو علم ہی نہ تھا ' مجھے خوشی تھی کہ میں آزاد ہوگیا ہوں' لائن میں لگ کر جاتے ہوئے مجھے شدید غصہ آتا تھا' جیسے سکول کے بچوں کو پی ٹی کروائ جارہی ہو ۔ بس میں سوچنے لگا کہ کبھی غلامی کی زندگی نہیں گزاروں گا' مگر جلد ہی مجھے اپنے گھر والوں کا خیال آیا ' میں دوبارہ ریوڑ میں شامل ہونے کے لیے بھاگا' مگر ریوڑ جا چکا تھا' مجھے ایک عورت نے تنہا دیکھا تو پیار کیا اور اپنی گود لے لیا' میں اس کے پاس دو ' تین دن رہا' میرا بہت خیال رکھتی تھی' جیسے اسکا سگا بیٹا تھا' کہاں وہ جاہل چرواہا اور کہاں  ماں کی مامتا ۔۔۔
مگر تین دن بعد چرواہے کی نظر مجھ پر پڑ گئ' بس پھر سے ریوڑ میں۔۔۔۔ مگر وہ تین دن میری زندگی کے خوبصورت ترین دن تھے وہ کبھی نہیں بھول سکتا' 
۔۔۔۔۔۔
کوئ خوشی کا یادگار لمحہ؟
ایک دفعہ  موسیقی کا مقابلہ ہوا تھا وہاں میں نے گیت گایا تھا۔
میں ' میں ' میں 
میں ' میں ' میں
سب نے ایک ہی گیت گایا' مگر مجھے سر کی وجہ سے اول پوزیشن دی گئ 'بکروں کے چئیرمین نے مجھے بکروں کا جسٹن بابیبر' قرار دیا ۔
۔
ایسا لمحہ جسے یاد کرکے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں؟
جی جب میرے والد کو قصائ کے ہاتھ بیچ دیا گیا' وہ میری زندگی  کا سب سے کربناک دن تھا' میں ساری رات سویا نہیں ' کئ دن تک پڑوس کے ناکام عاشق کی دیوار سے لگ کر ' اس کی لگائ ہوئ غمگین غزلیں سنتا رہا ۔
۔
کبھی کسی سے محبت ہوئ، محبت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
بڑا ذاتی نوعیت کا سوال پوچھ لیا' محبت کس بکرے کو نہیں ہوتی؟ سب کو ہی ہوتی ہے' میری زندگی میں بھی ایک خوبصورت بکری آئ تھی ' مگر بے وفاء نکلی ' میرے حصے کا بھی چارہ کھاجاتی تھی' ایک طرح سے وہ مجھ سے فلرٹ کرتی رہی ' بس وہ کسی اور بکرے سے محبت کرتی تھی' میری محبت یک طرفہ تھی' میں اس کے عشق میں پاگل ہوگیا' سب بکرے مجھے سمجھاتے کہ بکرا بن گدھا نہ بن ' مگر میں دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔ اس کو بھلاتے ہوئے مجھے زمانے لگے ۔۔ اب وقت کے ساتھ ساتھ ' بہت کچھ بھول گیا ہوں' اب بس مجھے اس کی صورت ہی یاد رہ گئ ہے۔ بہر حال اب وہ کسی اور کی عزت ہے ' اس لیے میں مزید کوئ بات اس کے بارے میں نہیں کرنا چاہتا ۔
۔
آپ کی کس عادت سے دوسرے تنگ رہتے ہیں۔
میں ' میں میں بہت کرتا ہوں' یعنی کہ باتیں بہت زیادہ کرتا ہوں کئ بکروں کو یہ بات اچھی لگتی ہے کئ بکروں کو یہ بات بہت بری لگتی ہے۔

کیسے لوگ اچھے لگتے ہیں؟
ہم بکروں کو تو وہ ہی مالک اچھے لگتے ہیں ' جو خوراک کا خیال رکھیں' اپنی نہیں ہماری ۔۔۔۔۔۔
۔
ایک تمنا جو پوری نہ ہوسکی؟
کہ جس سے محبت تھی اسے ایک بار دل کا حال کہہ پاتا' کسی نے سچ کہا ہے کہ محبت کو دل میں نہیں رکھنا چاہئیے ایک بار اظہار ضرور کرنا چاہئیے ' آج کل بکرے محبت میں ناکام نہیں ہوتے' کیونکہ ان کو محبت بعد میں ہوتی ہے' اظہار پہلے کردیتے ہیں۔
۔
زندگی سے سیکھی ہوئ کوئ بات جو ہم سے شئیر کرنا چاہتے ہیں۔
وہ ہی جو میرے والد مرحوم بلکہ والد شہید کہا کرتے تھے ' کہ کسی پر اندھا اعتبار نہ کرو' مگر ہم بکروں کو کیا فرق پڑتا ہے ہم کسی کا اعتبار کریں یا نہ کریں' مگر یہ راویت چلی آرہی ہے کہ ہم بکرے ازل سے بس ایک ہی نصیحت کررہے ہیں کہ کسی پر اندھا اعتبار نہ کریں۔
۔۔
کس مالک کے ہاتھ فروخت ہونا پسند کریں گے؟
یہ بات کرکے آپ نے میری عزت نفس کو ٹھیس پہنچائ ہے ' آپ کو شاید اس بات کا علم نہیں ہے کہ بکرے کا دل کتنا نازک ہوتا ہے ' کوئ چاہتا ہے کہ اسے غلامی کی زنجیر بلکہ رسی پہنائ جائے ' ویسے ہم کو ایسے مالک اچھے لگتے ہیں جو خوشحال ہوں' جو وافر مقدار میں چارہ بروقت سپلائ کرتے رہیں۔
۔
آپ نے یہ گروپ کیوں جائن کیا؟
کیونکہ سنا ہے اس بزم میں میرے جیسے سینکڑوں درد دل رکھنے والے ' ناکام عاشق اور نیم ناکام عاشق موجود ہیں' یہاں  اپنائیت کا احساس ہے' پھر جب لوگ یہاں آکر میں 'میں کرتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ میں اپنی برادری میں ہی ہوں۔
۔
عید قرباں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
ہر نفس کو موت آتی ہے' موت ایک حقیقت ہے' ہم ان لاکھوں انسانوں سے بہتر ہیں جو بغیر کسی مقصد کے زندگی پوری کرکے مر جاتے ہیں' اللہ نے ہمیں مقصد کے تحت تخلیق کیا ہے' اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے' بس ایک  بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اللہ کی راہ پر قربان کریں' تو نیت اللہ کی رضاء کی رکھیں' ہمیں حرام کے پیسوں سے خریدنے کی کوشش نہ کریں' نہ ہی فریج میں رکھ کر ہمیں مہینوں سردی میں ٹھٹھرنے پر مجبور کریں ۔
۔
بزم کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کریں
اچھی بزم ہے' یہاں آکر سکون ملتا ہے ' اپنائیت کا احساس ہوتاہے' مجھے لگتاہے کہ یہاں پر موجود اکثر لوگ غلطی سے آدمی بن گئے ' اصل میں ان کی سوچ ہم بکروں سے بہت ملتی 
ہے' اللہ اس بزم کو ہمیشہ آباد رکھے آمین۔



بدھ، 9 اکتوبر، 2013

میرا راجو -------تحریر ایس۔زیڈ۔ راجہ


ہؤا یوں کہ عید قربان پہ ہم بہن بھائیوں کا جوش دیدنی تھا کہ ہم نے بکرا لانا ہے-اور ہمارا اصرار ہوتا کہ بکرے کو 10 ،20 دن پہلے لایا جائے تاکہ ہم اسکی جی بھر کے رکھوالی کر سکیں -ابو، بکرا کیا لائے ہماری عید ہو گئی -ہم صبح شام بکرے کی خدمت میں جت گئے، نہ اسکول جانے کا دل کرتا نہ کھانا کھانے کا نہ سونے کا -ہم نے مل کے پہلے بکرے کا نام راجو تجویز کیا پھر اسکی سجاوٹ کی چیزیں لے کر آئے -اک دن ہماری ہمسائی دوست ہمارے راجو کا رشتہ لے کر ائی-ہمارے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے تھے۔ ہم نے مما سے نظر بچا کے راجو کا رشتہ طے کر دیا -اور ہم بہن بھائیوں نے بالا ہی بالا شادی کی تیاریاں شروع کر دیا۔ ا پنی پاکٹ منی سے اور کچھ سہیلیوں سے پیسے لے کر مہندی کا پروگرام گھر سے دور اک پہاڑی پہ رکھا جہاں ہم نے راجو سمیت بہت مستیاں کی۔ اگلے دن عید تھی جس دن بارات کی روانگی تھی اور ہم نے دلہن کو لانا تھا - رات بھر حسین خواب دیکھتے آنکھوں میں گزر گئی -صبح ہم تیار ہو کے دوکان سے مشروب لانے گئے۔ ہم بہت خوش تھے ہنستے گاتے بھاگتے گئے -مشروب لیا اور کچھ اہم انتظامات کا جائزہ لیا پھر گھر کو روانہ ہوئے -گھر داخل ہوتے ہی ہم نے جو منظر دیکھا وہ ہمارے ہوش اڑنے کو کافی تھا۔ ایک صاحب ہمارے راجو کو لٹکائے اسکی چیر پھاڑ کرنے میں مصروف عمل تھے۔ ہم بہن بھائیوں کی آنکھیں رو رو سوجھ گئیں، ممکن تھا کہ ہم بیہوش ہوجاتے مگر بھائی نے ہمیں سہارا دیا اور ہم سے لپٹ گیا ہم بے د م ہو کے گر پڑے۔ ہمیں دکھ تھا تو فقط اس بات کا کہ ہمارے راجوکے 
سہرے کے پھول بھی ابھی نہ کھلے تھے کے وہ اس دنیا ہی سے چلا گیا ہم مہینوں اس غم 
سے نڈھال رہے۔



عید پر میں دنبہ لایا:) ... از: عبدالباسط احسان



عید کے حوالے سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ میں خود دنبہ' یعنی اونی بکرا خرید کر لایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا کچھ یوں کہ مجھے مناسب دام میں دنبہ مل گیا' سوچا کہ خود ہی لیتا چلوں' مگر مسئلہ یہ تھا کہ میں پیدل تھا' گاڑی گھر تھی میں نے کہا کوئ بات نہیں ہمت مرداں ' مدد خدا' تین کلومیٹر دور گھر تھا' یہ سفر پیدل طے کرنا تھا۔
رسی پکڑی تو محسوس ہوا کہ دنبہ ' انا پرست ہے۔ خیر کوئ بات نہیں' حالانکہ عقلمندی یہ تھی کہ کسی رکشے کے اندر ہی اس کو سوار کردیتا' اس کو کھینچتا ہوا ' لا رہا تھا' عجیب ہی فطرت تھی اس کی چارہ دکھانے کے باجود ' وہ بیچارہ بنا ہوا تھا۔ ایک کلومیٹر کا سفر گھسیٹتے طے کیا' اب اس سڑک پر پہنچ گیا جہاں ٹریفک کا ہجوم ہوتا ہے یہاں ذرا سی غفلت جان لیوا ہوسکتی تھی۔ اس لیے میں نے رسی مضبوطی سے یوں پکڑ لی' جیسے کوئ پرانے قرض دار کو راستے میں پکڑ لیتا ہے۔ وقت میرے ساتھ نہیں تھا' دنبہ اپنی پوری طاقت لگا رہا تھا' ادھر سے میں اپنی پوری طاقت لگا رہا تھا کہ اس کو سڑک سے دور ہی رکھوں۔۔۔۔۔۔ میں جیت گیا یعنی کہ رسی ٹوٹ گئ اور دنبہ سڑک کے درمیان بھاگنے لگا۔ اس وقت رش تھوڑا کم تھا' گاڑیوں کے آنے سے پہلے پہلے اس کو قابو کرکے سڑک کے کنارے تک لانا تھا۔ مگر کیسے ' رسی ٹوٹ چکی تھی۔
اب میں نے اس کو کان سے پکڑا' مگر ایسا نالائق تھا کہ وہیں ڈٹ گیا کہ چاہے کان توڑ دو ' مگر میں نے نہیں ہلنا۔۔۔۔۔
میں نے زیادہ زور لگایا تو' وہیں ڈھیٹ بن کر بیٹھ گیا۔ یعنی سڑک کے درمیان ' اب میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا' اس وقت کو کوس رہا تھا جب میں نے رکشے کے پیسے بچانے کا سوچا تھا۔
وقت کم تھا' یا تو وہ کسی گاڑی کے نیچے آکر ' انا کے ہاتھوں قربان ہوجاتا ' یا اللہ کوئ سبب پیدا کرتا۔۔۔۔
آخر میں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ اس کو پکڑ کر اوپر اٹھا لیا۔ وہ ایسے ہاتھوں میں تڑپ رہا تھا جیسے مچھلی کو سمندر سے باہر نکالا ہو' میں کبھی جھولتا ادھر کو کبھی ادھر کو' خیر کنارے تک لے آیا۔
اب بھی فاصلہ کافی تھا۔۔۔
اب کیا کیا' جائے ۔۔۔ خیر میں نے وہیں کھڑے ہوکر خالی رکشے کا انتظار کیا اور اس کو باعزت طریقے سے بٹھا کر لے کے آیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از: عبدالباسط احسان


اب بھی مسکرا دیتا ہوں: از: احسن اظہر





عیدِ قرباں کے حوالے سےبہت ہی بچپن کا ایک واقعہ ہے، شاید میں چھے یا سات سال کا رہا ہوں گا۔ ابو سے بکرا لانے کی ضد کرنے لگا عید سےتقریباً پندرہ یا بیس روز پہلے ہی ۔۔ خیر ابو نے جلد ہی میری ضد کے آگے ہتھیار ڈال دئیے اور لے آئے ایک بہت یی تنو مند بکرا۔۔۔ کچھ زیادہ ہی صحت مند اور طاقتور تھا وہ۔۔ لیجیئے صاحب میری خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نا تھا۔۔۔ سرِ شام ہی اب یہ ضد میری کہ میں بکرے میاں کو سیر کروانے جاؤں گا۔ ابو تو چلے گئے تھے یہ ضد میں امی سے کر رہا تھا۔۔ امی نے لاکھ منع کیا کہ احسن تم نہیں سیر کرا پاؤ گے اسے، تمہارے بھائی آ جائیں تو ان کے ساتھ چلے جانا۔۔۔ پر مجھ سے صبر نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔ آخر اس محاذ پر بھی اللہ نے مجھے فتح نصیب کی اور میں چل پڑا بکرے میاں کو لیکرکے۔۔۔ ابھی میں اپنے باغیچے سے نکلا ہی تھا کہ مجھے اپنی اس خوش فہمی کا احساس ہو گیا کہ دراصل میں نہیں، بکرا مجھے سیر پر لے کر نکلا ہے۔۔۔ لیجئے جناب۔۔۔ بکرا آگے آگے اور میں بکرے کی رسّی تھامے۔۔۔ کبھی بھاگتا ہؤا ، کبھی گرتا   پڑتا، کبھی گھسٹتا ہؤا اسکے پیچھے پیچھے۔۔۔ اس وقت اگر اے بی ایس بریکس ایجاد ہو چکے ہوتے تو میری حالتِ زار  سےلوگوں کو ان بریکس کے ورکنگ پرنسپل کا بخوبی اندازہ ہو جاتا۔۔۔ خیر بکرے میاں نے مجھے کہاں کہاں سیر نہیں کروائی۔۔۔ شہر کا وہل کونسا حصہ ہوگا جہاں بکرے میاں نے مجھے سیر نا کروائی ہوگی۔۔۔ مجھے اپنے شہر کی بہت سی نئی جگہوں سے متعارف کرواتے ہوءے بکرے میاں بگٹٹ بھاگے جا رہے تھے ۔۔۔ شہر چھوٹا سا تھا (روہڑی) لہٰذا کئی جگہوں سے گزرتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ،"یہ تو وہی جگہ ہے ، گزرے تھے ہم جہاں سے"اور مجھے بکرے میاں سے یہ شکایت کہ ،"اماں ، تھمو رے کوئی جگہ ٹھیک سے دیکھ تو لینے دو"خیر ایک ایسی جگہ سے بھی بکرے کا گزر ہؤا جہاں قریب ہی میرے بھائی صاحب فٹبال کےکسی گول کیپر کی طرح سامنے دونوں بانہیں پھیلائے کھڑے تھے۔۔۔ اور انکی بروقت قلابازی نے کام  کردکھایا اور رسی بھائی کے ہاتھ آگئی ۔۔ اسطرح بکرے کی باگ ڈور انکے ہاتھ لگ گئی اور میں اس ذمہ داری سے بریءالزماں قرار پایا۔۔۔ دریافت کرنے پر معلوم ہؤا کہ بھائی صاحب "جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں "پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مجھے کافی دیر سے ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔ پر ناکامی مسلسل انکا منہ چڑھائے جا رہی تھی ۔۔۔ تب انھوں نے حکمتِ عملی بدلی اور نئی حکمتِ عملی اپنائی کہ"اگر میں بکرا ہوتا تو کہاں جاتا؟؟؟"اسطرح انھیں کامیابی نصیب ہوئی اور مجھے خلاصی ۔۔۔وہ دن اور آج کا دن ۔۔۔ میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اتنی جلدی جانور لانے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ عید کی رات لے آئیں گے ۔۔۔یہ واقعہ آج بھی میرے چہرے پر مسکراہٹ کا باعث بنتا ہے ۔۔۔ اور دوستو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس واقعہ کو قلمبد کرتے ہوئے میری باچھیں میرے کانوں تک آچکی ہیں ۔


منگل، 8 اکتوبر، 2013

عبدالباسط کی جانب سے خرم امتیاز کوعید مبارک

خرم امتیاز صاحب اردو فورم کے مقبول سلسلے ' انٹرویو کے منتظم ' ماہر تجزئیہ نگار' ابھرتے ہوئے لکھاری ہیں' فن مصوری سے بھی ان کو جنون کی حد تک لگاءو ہے' ان کی پیش کی گئیں غزال' انکے اعلی ادبی ذوق کی گواہی دیتی ہیں۔ ان سے میری دوستی ہوئے اب تو کافی عرصہ ہوگیا ہے۔ میں ان کو عید مبارک کہنا چاہتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم امتیاز بھائ! عید مبارک! اللہ کرے یہ عید آپ لیے آپ کے گھر والوں کے لیے بھرپور خوشیاں لے کر آئے بہت سی نیک تمنائیں۔ آپ کو عید کارڈ بھیج رہا ہوں۔

معراج رسول کی جانب سے عبدالباسط کو عید مبارک






ایس زیڈ راجہ کی طرف سے احسن اظہر کو عید مبارک




مرے انمول رتن
میرے احسن اظہر بھیا
عید اپنے سنگ آپ ک لئے ڈھیروں ،خوشیاں ،کامیابیاں اور کامرانیاں لے کر آئے آپکو اور آپکی فیملی کو دلی عید مبارک قبول ہو -
یاد رہے میری عیدی تو بنتی ہے ناں  یاد سے ہاں 

ایس زید راجہ کی طرف سے عبدالباسط کو عید مبارک




مرے بھیا مرے چندا مرے انمول رتن

عبدل باسط احسان
میری طرف سے آپ کو اور آپکے تمام گھر والوں کو عید کے خوبصورت لمحات مبارک ہوں -
میری عیدی یاد سے دے دیجئے گا 

عید مبارک : ثروت گل


عید آۓ تیرے آنگن میں مسرت کا سویرا ھو-
رحمتیں نچھاور ھوں خوشیوں کا بسیرا ھو-
آمین


پیر، 7 اکتوبر، 2013

عیدِایثار-----از------ ثروت گِل



عیدالضحٰی کی خوش کن گھڑیاں آپ کے در پر دستک 

دینے کو ہیں- مسلمانوں کا مقدس مذہبی تہوار جو ایک ایسے عظیم واقعے کی یادگار ہے- جس کی مثال تاریخِ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے- الله تعالی نے خواب کے ذریعے حضرت ابراہیم (ع ) کو اپنے محبوب فرزند اسمعیل (ع) کی قربانی کا حکم دیا تو آپ جان و دل سے تیار ہو گئے اور سعادت مند بیٹے نے بھی ارشادِالٰہی کی تعمیل کے لیے خود کو پیش کردیا- جب باپ بیٹا ارشادِربانی کی تعمیل کے لیے تیار ہو گئے حضرت ابراہیم (ع) نے حضرت اسمعیل (ع) کو منہ کے بل زمین پر لٹا دیا ذبح کرنے کے لیے بیٹے کی پیشانی پکڑی الله تعالی اپنے عاشقوں کے خلوص کا مظاہره دیکھ رہا تھا فرمایا - اے ابراہیم! ہم نے تجھے راضی با راضاۓ مولا پایا ہے اب ہم تمھیں حکم دیتے ہیں کہ بیٹے کے بجاۓ یہ دنبہ ذبح کرو ہم نے اسمٰعیل کے عوض تجھے مبارک ذبیحہ عطا فرمایا ہے جو دنبہ حضرت اسمعیل (ع) کے عوض ذبح کیا گیا اس کا نام وزیر تھا اور ان بکریوں میں سے تھا جو چالیس برس تک بہشت میں چرائی گئی تھیں- الله تعالی فرماتا ہے "ہم نیکوکاروں کو یہی جزا دیتے ہیں جیسی حضرت ابراہیم کو اس نیک کام اور تعمیل کے تحت دی گئی"یہ بہت کڑا امتحان تھا جس پر حضرت ابراہیم (ع) پورے اترے الله تعالی کو قربانی کا یہ جذبہ اتنا محبوب ہوا کہ رہتی دنیا تک قربانی ہر صاحبِ استطاعت پر فرض کر دی گئی- حضرت عائشہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ‌فرمایا جو شخص قربانی کے دن اپنی قربانی کے پاس جاتا ہے اور اسے الله کی راه میں قربان کرتا ہے - الله تعالی اسے بہشت کے قریب کر دیتا ہے جب قربانی کے خون کا پہلا قطره زمین پر گرتا ہے تو قربانی کرنے والا بخش دیا جاتا ہے قیامت میں یہی قربانی اسکی سواری ہوگی جانور کے بال اور پشم کے برابر اسے نیکیاں ملیں گی- حضرت داؤد (ع) نے الله تعالی کے حضور سوال کیا محمد (ص) کی امت کو قربانی کا کیا ثواب ہو گا؟ ارشاد ہوا " ہر بال کے عوض دس نیکیاں ملیں گی- دس برائیاں دور ہوںگی     - دس درجے بلند کیے جائیں گے- آپ نے پھر پوچھا قربانی کا پیٹ چاک کرنے کا کتنا ثواب ہو گا؟ ارشاد ہوا " قربانی دینے والا جب اپنی قبر سے اٹھے گا نہ تو بھوک پیاس سے پریشان ہو گا نہ قیامت کا خوف ہوگا- قربانی کے ہر ٹکڑے کے عوض بہشت میں ایک نور عطا ہو گا اور ہر ٹکڑے کے عوض ایک گھوڑا عطا ہو گا- جانور کے ہر بال کے بدلے میں جنت میں ایک محل ملتا ہے پھر فرمایا " اے داؤد ! تمھیں علم نہیں کہ قربانی کرنے والوں کے لیے ان کی قربانیاں سواریاں ہیں یہ گناہوں کو مٹاتی اور آفات کو دور کرتی ہیں-لہذا لوگوں کو قربانی کا حکم دو-قربانی مومن کے لیے صدقہ ہے- آپ صلی الله علیہ وسلم جب قربانی کے لیے بکری کو ذبح کرتے تو اپنا پاؤں اس کے مونڈھے پر رکھتے بسم الله الله اکبر کہتے اور ذبح کرتے- آپ نے لوگوں کو حکم دیا جب ذبح کرو تو اچھے انداز سے کرو یعنی چھری تیز ہو اور جلد ذبح کریں- قربانی دینا سنت ہے -لیکن اسلام کی ہر عبادت کی طرح اس کی روح بھی اخلاصِ نیت پر ہے یعنی ہر نیک عمل کی بنیاد الله تعالی کی رضا اور اس کے حکم کی تعمیل نا کہ دنیا میں بڑائی اور تعریف و توصیف کا جذبہ- خلوصِ نیت سے کیا جانے والا عمل ہی بارگاهِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ پاتا ہے- اور ہاں عیدالاضحٰی کے مقدس اور خوشیوں سے بھرے ایام میں جب آپ قربانی کے گوشت سے لطف اندوز ہو رہے ہوں تو اپنے آس پاس بھی نظر کیجئے گا کہیں کوئی اس خوشی سے محروم تو نہیں ره گیا-الله تعالی ہم سب کی قربانی کو قبول کرے اور ہمیں صحیح تقسیم کا شوق و شعور عطا کرے آمین- تمام امتِ مسلمہ کو عیدالاضحٰی کی ڈھیروں مبارکباد- دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔ ثروت گل




نازیہ عروج کی طرف سے عبدالباسط کو عید کارڈ





ایس زیڈ راجہ کی جانب سے عید مبارک



میری جانب سے اردو گروپ کے تمام اڈمینز اور ممبرز کو دلی عید مبارک قبول ہو خدا کرے یہ عید آپ اور آپکی فیملی کے لئے ہزاروں خوشیاں لے کر آئے اپنوں کے سنگ عید کا لطف اٹھائیں ماں باپ بہن بھائیوں عزیز رشتے داروں کو خصوصی طور پر یاد رکھیں خوشیاں اپنوں کے ساتھ ہی مکمل ہوتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کو مت بھولئیے ہو سکتا ہی 

ان کی دعا آپکی تقدیر بدل دے -




محترمہ نازیہ عروج عید مبارک: عبدالباسط احسان

محترمہ نازیہ عروج صاحبہ
اردو' فورم کی منتظمہ ہیں' اس کے ساتھ میری بہت اچھی دوست بھی ہیں' ہماری دوستی اتنی ہی پرانی  ہے جتنی پرانی فیس بک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔`
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
دعا ہے کہ یہ عید آپ کے لیے آپ کے گھر والوں کے لیے رحمتوں اور برکتوں کا باعث بنے' بہت سی نیک تمنائیں ۔ 











عید مبارک معراج : عبدالباسط احسان

معراج رسول رانا 
معراج رسول رانا ' ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر اور ادیب ہیں' ان سے میری دوستی 
تین سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معراج! خوش رہو ۔
اللہ کرے یہ عید تمھارے لیے مبارک ثابت ہو' اس عید پر ایک طرف بکرا قرباں ہو ' دوسری طرف تم یعنی کہ تمھاری شادی ہوجائے ۔۔ آمین
ہم نے بہت اچھا وقت ایک ساتھ گزارا ہے' سردیوں کی طویل راتوں میں دوستوں کے ساتھ لمبی لمبی گفتگو' وہ ہنسی مذاق ' وہ حسین لمحے ۔۔۔۔۔۔ دوستی کے سفر میں کبھی کبھی' سپیڈ بریکر آجاتے ہیں۔ یہ کوئ انہونی بات نہیں ہوتی۔
جیسے بھِی ہو جدھر بھی ہو ' میری دعاءوں میں تم شامل ہو۔
تم کو عید کی بہت بہت مبارکباد۔۔۔ 
اللہ تم کو ہمیشہ خوش و شاد رکھے' بہت سی نیک تمنائیں۔
دعاءوں میں یاد رکھنے کی درخواست ہے۔