سلمان عباسی کی پوسٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اکیلی ہاتھ میں چھری پکڑے بیٹھی تھی، اس کی نطریں خلاوں میں گھور رہی تھیں گویا کسی نادیدہ چیز کو تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہوں۔ اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، سامنے اسے بچے رو رو کر ضد کررہے تھے۔ وہ اس بات پر بضد تھے کہ آج تو وہ کم از کم دال یا چٹنی سے ہرگز روٹی نہیں کھائیں گے، کیوں؟ ماں کے سوالیہ نشان پر انہوں نے محلے کے ہر ہر گھر کا نام لے ڈالا تھا جہاں بکرے، گائیاں، بیل اور اونٹ قربان ہونے کے بعد خود سوالیہ نشان بنے کھڑے تھے۔ وہ خود حیران تھی کہ آخر ایسا کیا ہے کہ ہر سال محلے میں درجنوں قربانیاں ہوتی ہیں لیکن اس کے گھرگوشت کی ایک بوٹی تک نہیں آسکتی، شام تک وہ کسی آس کے سہارے انتظار کرتی ہے لیکن پھر دل پر صبر کا بھاری پتھر رکھ معمول کی طرح دال یا چٹنی ہی کے سہارے بچوں کو بہلانے کی کوشش کرتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہی معمول تھا لیکن شاید اس مرتبہ اس کے بچے سیانے ہوچکے تھے۔ وہ بضد تھے کہ وہ آج تو بغیر گوشت کے کھانا کھائیں گے ہیں نہیں۔ بس یہی چیز تھی جس نے اسے دیوانہ کردیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بچون کی ضد اور بھوک سے بلکنے کی آوازین اس کا کلیجہ کاٹ رہی تھیں۔ اب وہ اپنے وہ دن یاد کررہی تھی جب وہ شادی ہوکر اس محلے میں آبسی تھی۔ اچانک اسے یاد آیا کہ وہ دن تو ایسے نہیں تھے، اس وقت تو اس کا شوہر جوان جہان موجود تھا۔ گھر کی آمدنی اچھی تھی، ہر عید پر وہ قربانی بھی کیا کرتے تھے۔ اچانک ہی اس پر انکشاف ہوا کہ ان دنوں میں تو محلےکے ہر گھر سے قربانی کا گوشت اس کے گھر ضرور آتا تھا، بچوں کی روتی آوازیں اور مچلتے ارمانوں میں الجھی وہ اس سوچ میں گم تھی کہ اس پر اچانک ایک اور انکشاف ہوا۔ یہ انکشاف ایسا تھا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا دل بیٹھنے لگا، اسے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اب اس کا دل بند ہوجائے گا۔ اگر اس کے بچے اس کے سامنے نہ ہوتے اور اس کے کندھون پر ان کی ذمہ داری نہ ہوتی تو شاید شدت غم سے اس کی حرکت قلب بند ہوچکی۔ مسلسل سوچ وبچار کے بعد اس کے چھوٹے سے ذہن میں یہی بات آئی تھی کہ محلے دار بدلے کا گوشت بھیجا کرتے تھے اور چونک وہ لاچار بیوہ تھی جس کے پاس قربانی تو درکنا دو وقت صحیح سے کھان کھانے کے پیسے بھی نہیں تو محلے کا کوئی گھر اسے بدلے کا گوشت کیونکر بھجوا سکتا تھا۔یہ سوچ سوچ کر اس کے ہوش اڑے جارہے تھے۔ کیا انسان اتنا گر چکا ہے؟ شاید وہ بے ہوش ہونے والی ہی تھی کہ اپنے گرد اٹھنے والے شور نے اسے ہوش میں لا ڈالا۔ کئی لوگ اس کے گرد کھیرا ڈالے کھڑے تھے۔ پہلے تو وہ پہچانی ہی نہیں۔ وہ تو کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئی تھی۔ سوچوں نے اسے ماضی می لاکھڑا کیا تھا۔ پھر اسے آہستہ آہستہ ہوش آیا۔ وہ اس کی اپنی جوان اولاد ہی تھی جو اس کی خواہش کے مطابق قربانی کے سارا گوشت عربائ و مساکین میں تقسیم کرکرے شام گئےواپس ہوئے تھے۔ بچے کہہ رہے تھے کہ امی آپ کو کیا ہوا ہے؟ آپ کئی گھنٹوں سے یہی وہی چھری ہاتھ میں لئے بیٹھی ہیں جس سے آُپ نے گوشت خود کاٹ کر تقسیم کرنے کو دیا تھا۔ اور یہ آپ کی آنکھون میں آنسو کیسے؟ وہ خود حیران تھی کہ یہ کیا ہوگیا؟ وہ کہاں کھو گئی تھی؟ پھر اسے خود یاد آنے لگا کہ کہ کس طرح اس نے اپنے ماضی کے برے دور میں یہ عہد کیا تھا کہ اللہ نے اس فرصت دی تو وہ اپنے جیسے لوگوں کی خبر ی کرنا نہیں بھولے گی۔ اب وہ اپنی جوان اولاد کو کیا ماضی کا حال بتاتی، یہی سوچ کر وہ خاموش ہوگئی۔ خوشی کے اس موقع پر وہ اپنا غم نہیں بانٹ سکتی تھی!!!!!!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنی قیمتی رائے ضرور دیں