عیدالضحٰی کی خوش کن گھڑیاں آپ کے در پر دستک
دینے کو ہیں- مسلمانوں کا مقدس مذہبی تہوار جو ایک ایسے عظیم واقعے کی یادگار ہے- جس کی مثال تاریخِ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے- الله تعالی نے خواب کے ذریعے حضرت ابراہیم (ع ) کو اپنے محبوب فرزند اسمعیل (ع) کی قربانی کا حکم دیا تو آپ جان و دل سے تیار ہو گئے اور سعادت مند بیٹے نے بھی ارشادِالٰہی کی تعمیل کے لیے خود کو پیش کردیا- جب باپ بیٹا ارشادِربانی کی تعمیل کے لیے تیار ہو گئے حضرت ابراہیم (ع) نے حضرت اسمعیل (ع) کو منہ کے بل زمین پر لٹا دیا ذبح کرنے کے لیے بیٹے کی پیشانی پکڑی الله تعالی اپنے عاشقوں کے خلوص کا مظاہره دیکھ رہا تھا فرمایا - اے ابراہیم! ہم نے تجھے راضی با راضاۓ مولا پایا ہے اب ہم تمھیں حکم دیتے ہیں کہ بیٹے کے بجاۓ یہ دنبہ ذبح کرو ہم نے اسمٰعیل کے عوض تجھے مبارک ذبیحہ عطا فرمایا ہے جو دنبہ حضرت اسمعیل (ع) کے عوض ذبح کیا گیا اس کا نام وزیر تھا اور ان بکریوں میں سے تھا جو چالیس برس تک بہشت میں چرائی گئی تھیں- الله تعالی فرماتا ہے "ہم نیکوکاروں کو یہی جزا دیتے ہیں جیسی حضرت ابراہیم کو اس نیک کام اور تعمیل کے تحت دی گئی"یہ بہت کڑا امتحان تھا جس پر حضرت ابراہیم (ع) پورے اترے الله تعالی کو قربانی کا یہ جذبہ اتنا محبوب ہوا کہ رہتی دنیا تک قربانی ہر صاحبِ استطاعت پر فرض کر دی گئی- حضرت عائشہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قربانی کے دن اپنی قربانی کے پاس جاتا ہے اور اسے الله کی راه میں قربان کرتا ہے - الله تعالی اسے بہشت کے قریب کر دیتا ہے جب قربانی کے خون کا پہلا قطره زمین پر گرتا ہے تو قربانی کرنے والا بخش دیا جاتا ہے قیامت میں یہی قربانی اسکی سواری ہوگی جانور کے بال اور پشم کے برابر اسے نیکیاں ملیں گی- حضرت داؤد (ع) نے الله تعالی کے حضور سوال کیا محمد (ص) کی امت کو قربانی کا کیا ثواب ہو گا؟ ارشاد ہوا " ہر بال کے عوض دس نیکیاں ملیں گی- دس برائیاں دور ہوںگی - دس درجے بلند کیے جائیں گے- آپ نے پھر پوچھا قربانی کا پیٹ چاک کرنے کا کتنا ثواب ہو گا؟ ارشاد ہوا " قربانی دینے والا جب اپنی قبر سے اٹھے گا نہ تو بھوک پیاس سے پریشان ہو گا نہ قیامت کا خوف ہوگا- قربانی کے ہر ٹکڑے کے عوض بہشت میں ایک نور عطا ہو گا اور ہر ٹکڑے کے عوض ایک گھوڑا عطا ہو گا- جانور کے ہر بال کے بدلے میں جنت میں ایک محل ملتا ہے پھر فرمایا " اے داؤد ! تمھیں علم نہیں کہ قربانی کرنے والوں کے لیے ان کی قربانیاں سواریاں ہیں یہ گناہوں کو مٹاتی اور آفات کو دور کرتی ہیں-لہذا لوگوں کو قربانی کا حکم دو-قربانی مومن کے لیے صدقہ ہے- آپ صلی الله علیہ وسلم جب قربانی کے لیے بکری کو ذبح کرتے تو اپنا پاؤں اس کے مونڈھے پر رکھتے بسم الله الله اکبر کہتے اور ذبح کرتے- آپ نے لوگوں کو حکم دیا جب ذبح کرو تو اچھے انداز سے کرو یعنی چھری تیز ہو اور جلد ذبح کریں- قربانی دینا سنت ہے -لیکن اسلام کی ہر عبادت کی طرح اس کی روح بھی اخلاصِ نیت پر ہے یعنی ہر نیک عمل کی بنیاد الله تعالی کی رضا اور اس کے حکم کی تعمیل نا کہ دنیا میں بڑائی اور تعریف و توصیف کا جذبہ- خلوصِ نیت سے کیا جانے والا عمل ہی بارگاهِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ پاتا ہے- اور ہاں عیدالاضحٰی کے مقدس اور خوشیوں سے بھرے ایام میں جب آپ قربانی کے گوشت سے لطف اندوز ہو رہے ہوں تو اپنے آس پاس بھی نظر کیجئے گا کہیں کوئی اس خوشی سے محروم تو نہیں ره گیا-الله تعالی ہم سب کی قربانی کو قبول کرے اور ہمیں صحیح تقسیم کا شوق و شعور عطا کرے آمین- تمام امتِ مسلمہ کو عیدالاضحٰی کی ڈھیروں مبارکباد- دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔ ثروت گل

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنی قیمتی رائے ضرور دیں