محترمہ شاھین مقصود خان نے تحریر پوسٹ کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“““ عید قرباں اور ہماری بےحسی “““
مہنگائی عروج پہ پہنچ گئی ہے بھئی اس بار اونٹ کی قربانی ملتوی کر دیتے ہیں ،، کیوں نہ ٣ گائے اور٤ بکرے لے آئیں ،، وہ بھی تو اونٹ کے برابر ہی پینچ جائیں گے ۔۔ شیخ ہدایت اللہ صاحب کپڑے سیدھے کرتے ہوئے اپنی بیوی سے بولے جو ابھی گاڑی سے اُتر کر لان میں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک کہا آپ نے شیخ صاحب !! اس مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے ،، سامنے والی ڈاکٹر نگہت کہہ رہی تھیں کہ ہم نے تو 5 بکرے سے زیادہ قربانی نہیں دینی ،، میں نے کہا کالونی والے کیا کہیں گے ؟؟ وہ بولی کہتے ہیں تو کہنے دیں ہمارے قربانی کےلئے لائے بکروں کا کوئی کالونی میں مقابلہ تو کر کے دیکھے ۔۔
اتنی دیر میں شیخ صاحب کی بیوی ایک بیمار لاغر اور ناتواں عورت ( اسلم کی بیوی ) پر برسنے لگی جو ابھی گھر میں داخل ہو رہی تھی ۔۔۔
کہاں مر گئی تھی تم ۔۔۔؟ ١٠ جوڑے سوٹ کیا دے دیئے عذاب آ گیا تم پر ،، اگر کام نہیں کرنا تھا تو بتا دیتی میں کسی اور کا بندوبست کر لیتی ، عید سر پر ہے اور پہننے کو جوڑے نہیں ،،
بی بی جی معاف کر دینا دراصل مشین خراب ہو گئی تھی اور میں ابھی بیماری سے اُٹھی ہوں ۔۔ آپ سے عید کا کیا وعدہ ضرور پورا کروں گی ،، کیا مجھے تھوڑے پیسے ایڈوانس مل سکتے ہیں ، دوائی لانی ہے ۔۔۔
شیخ کی بیوی ( سکینہ ، اسلم کی بیوی ) پر برسی ،، دیکھو سکینہ یہ ڈھکوسلے اب نہیں چلنے والے ، عید پر ہمارے مہمان آنے والے ہیں وگرنہ میں تمہاری اس کمانے کے انداز کو مزا چکھا دیتی ۔۔ اچھا شام کو آ جانا تمہیں پیسے دے دوں گی ۔۔۔۔۔ (( جبکہ ہزار کے کئی نوٹ بٹوے میں رکھے ہوئے ہیں ))
(شیخ صاحب کا بڑا بیٹا لان میں آتے ہیں والد سے کہتا ہے )۔۔ ابا جی ١٠ ہزار روپے چاہیے ۔ میں نے اس مرتبہ اصغر کے بیٹوں کو عید کے لئے نئے کپڑے دلوانے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیخ صاحب برس کر بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خبردار بیٹا ان چھوٹے لوگوں کے منہ مت لگا کرو ، عید کے تہوار ان کی کمائی کے دن ہوتے ہیں ۔۔۔۔
““““ ہم نے کوئی دھرم شالہ نہیں کھولی ہوئی “““““۔۔۔۔۔۔۔
( اہل علم دوستو !! یہ منظر ہم آج طبقاتی تفریق میں بٹے تقریبا ہر مخیر گھرانے میں دیکھتے ہیں ۔۔ کیا ہماری عید قرباں ان مجبور طبقوں کو صرف رلانے آتی ہے ؟؟؟ )
تحریر : سید شاکر حسین رضوی

مہنگائی عروج پہ پہنچ گئی ہے بھئی اس بار اونٹ کی قربانی ملتوی کر دیتے ہیں ،، کیوں نہ ٣ گائے اور٤ بکرے لے آئیں ،، وہ بھی تو اونٹ کے برابر ہی پینچ جائیں گے ۔۔ شیخ ہدایت اللہ صاحب کپڑے سیدھے کرتے ہوئے اپنی بیوی سے بولے جو ابھی گاڑی سے اُتر کر لان میں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک کہا آپ نے شیخ صاحب !! اس مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے ،، سامنے والی ڈاکٹر نگہت کہہ رہی تھیں کہ ہم نے تو 5 بکرے سے زیادہ قربانی نہیں دینی ،، میں نے کہا کالونی والے کیا کہیں گے ؟؟ وہ بولی کہتے ہیں تو کہنے دیں ہمارے قربانی کےلئے لائے بکروں کا کوئی کالونی میں مقابلہ تو کر کے دیکھے ۔۔
اتنی دیر میں شیخ صاحب کی بیوی ایک بیمار لاغر اور ناتواں عورت ( اسلم کی بیوی ) پر برسنے لگی جو ابھی گھر میں داخل ہو رہی تھی ۔۔۔
کہاں مر گئی تھی تم ۔۔۔؟ ١٠ جوڑے سوٹ کیا دے دیئے عذاب آ گیا تم پر ،، اگر کام نہیں کرنا تھا تو بتا دیتی میں کسی اور کا بندوبست کر لیتی ، عید سر پر ہے اور پہننے کو جوڑے نہیں ،،
بی بی جی معاف کر دینا دراصل مشین خراب ہو گئی تھی اور میں ابھی بیماری سے اُٹھی ہوں ۔۔ آپ سے عید کا کیا وعدہ ضرور پورا کروں گی ،، کیا مجھے تھوڑے پیسے ایڈوانس مل سکتے ہیں ، دوائی لانی ہے ۔۔۔
شیخ کی بیوی ( سکینہ ، اسلم کی بیوی ) پر برسی ،، دیکھو سکینہ یہ ڈھکوسلے اب نہیں چلنے والے ، عید پر ہمارے مہمان آنے والے ہیں وگرنہ میں تمہاری اس کمانے کے انداز کو مزا چکھا دیتی ۔۔ اچھا شام کو آ جانا تمہیں پیسے دے دوں گی ۔۔۔۔۔ (( جبکہ ہزار کے کئی نوٹ بٹوے میں رکھے ہوئے ہیں ))
(شیخ صاحب کا بڑا بیٹا لان میں آتے ہیں والد سے کہتا ہے )۔۔ ابا جی ١٠ ہزار روپے چاہیے ۔ میں نے اس مرتبہ اصغر کے بیٹوں کو عید کے لئے نئے کپڑے دلوانے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیخ صاحب برس کر بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خبردار بیٹا ان چھوٹے لوگوں کے منہ مت لگا کرو ، عید کے تہوار ان کی کمائی کے دن ہوتے ہیں ۔۔۔۔
““““ ہم نے کوئی دھرم شالہ نہیں کھولی ہوئی “““““۔۔۔۔۔۔۔
( اہل علم دوستو !! یہ منظر ہم آج طبقاتی تفریق میں بٹے تقریبا ہر مخیر گھرانے میں دیکھتے ہیں ۔۔ کیا ہماری عید قرباں ان مجبور طبقوں کو صرف رلانے آتی ہے ؟؟؟ )
تحریر : سید شاکر حسین رضوی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنی قیمتی رائے ضرور دیں